حضرتِ سیِّدُناجابِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ، ''نبیِّ کریم ، رسولِ عظیم، رءوفٌ رَّحیم
علیہ اَفضْلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسلیم
نے اِرشاد فرمایا،''گَرم(گَر۔مْ) کھانا ٹھنڈا کرلیا کرو کیونکہ گرم کھانے میں بَرَکت نہیں ہوتی۔ ''
(مستدرَک للحاکم ج۴ص۱۳۲حدیث ۷۱۲۵ )
کھانا کتنا ٹھنڈا کیا جائے!
حضرتِ سَیِّدَتُنا جُوَیْرِیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رِوایتَت ہے کہ نبیِّ اکرم ،نُورِ مُجَسَّم، سرورِ دوعالَم،رسولِ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کھانے کی بھاپ خَتْم ہونے سے پہلے اُسے کھانے کو ناپسند فرماتے۔
(مجمع الزوائد ج۵ص۱۳حدیث۷۸۸۳)
ميٹھے ميٹھے اِسلامی بھائیو!کھانا ٹھنڈا کرکے کھانا چاہئے مگریہ ضَروری نہیں کہ اتنا ٹھنڈا کردیں کہ جم کر بد مز ہ ہوجائے بلکہ کچھ ٹھنڈا ہولینے دیں کہ بھاپ اُٹھنا بند ہوجائے۔ مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنّان فرماتے ہیں ،''کھانے کاقَدرے (یعنی کچھ )ٹھنڈا ہو جانا اور پھونکوں سے