Brailvi Books

آدابِ طعام
278 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جب تم مُرسلین (علیھم السلام )پر دُرُود پاک پڑھو تو مجھ پر بھی پڑھو بے شک میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں ۔
رہے تو یہ دھونا نہیں کہلائے گا۔تجرِبہ(تَجْ۔ رِ۔بہ)یہ ہے کہ ایک بار دھوکر پینے سے عُمُوماً برتن صاف نہیں ہوتا لھٰذادو یا تین بار پانی ڈالکر اچّھی طرح اُوپری کَناروں سمیت ہر طرف انگلی پھرا کر دھو کر پئیں تو بہتر ہے۔
دھو کرپینے کے بعد بچے ہوئے قطرے
دھو کرپینے کے بعد بھی رِکابی یا پیالے وغيرہ میں چند قطرے بچ جاتے ہیں لہٰذا اُنگلی سے جَمْع کرکے پی لیجئے ، پانی یا مشروب پی کر گلاس یابوتل بظاہر خالی ہو جانے کے باوُجُود چند لمحوں کے بعددیکھیں گے تو اُس کی دیواروں سے اُتر کر پیندے میں چند قطرے جمع ہوچکے ہونگے ، ان کو بھی پی لیجئے کہ حدیث ِ پاک میں ہے،''تم نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصّے میں بَرَکت ہے'' کاش!اِس طرح دھو کر پینا نصیب ہو کہ کھانے کاوہ برتن، لسّی کا گلاس یا چائے کا پیالہ وغیرہ ایسا ہو جائے کہ شناخت نہ ہو سکے کہ اِس میں ابھی کچھ کھا یایا شربت وغیرہ پیا گیا ہے!
برتن دھو کرپینے کے طبی فوائد
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
کوئی سُنَّت خالی از حکمت نہیں ۔ جدید سائنس بھی اب اعتِراف کرتی ہے کہ حیاتیات یعنی وٹامنز خُصُوصاً ''وٹامن بی کمپلیکس''کھانے کے اُوپری حصّے میں کم اور برتن کے پَیندے میں زيادہ ہوتے ہیں نیز غذا میں موجود مَعدنی نَمکیات صِرف پیندے ہی میں ہوتے ہیں جو کہ برتن کو چاٹنے یا دھو کر پی لینے
Flag Counter