Brailvi Books

آدابِ طعام
276 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود پاک کی کثرت کروبے شک یہ تمہارے لئے طہارت ہے ۔
ادب ہے، اِس کو بربادی سے بچانا ہے، برتن یوں ہی چھوڑ دینے سے اِس پر مَکّھیاں بِھنبِھناتی ہیں، برتن میں لگے ہوئے کھانے کے اَجزاء مَعاذاللہ عَزَّوَجَلَّ نالیوں ، گندگیوں میں پھینک دیئے جاتے ہیں، جس سے اُس کی سخْت بے اَدَبی ہوتی ہے ۔ اگر ایک وقت میں ہر فرد چند دانے بھی برتن میں چھوڑ کر ضائِع کر دے تو روزانہ کئی من کھانا برباد ہو گا ۔ غرضیکہ برتن چاٹنے میں کئی حِکمتیں ہیں۔''
 (مُلَخَّص از مراٰۃ ج۶ ص۳۸)
ایمان افروز ارشاد!
سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا،''پیالہ چاٹ لینا مجھے اِس سے زیادہ مَحبوب ہے کہ پِیالہ بھر کھانا تَصَدُّق کروں۔''(یعنی چاٹنے میں چُونکہ اِنکِسَارِی ہے لہٰذااِس کا ثواب اُس صَدَقہ کے ثواب سے زيادہ ہے)
(کنزا لعُمّال ج۱۵ ص۱۱۱حدیث ۴۰۸۲۱ )
میٹھے میٹھے مَدَنی آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا،''جو رِکابی اور اپنی اُنگلیاں چاٹے اللہ عَزَّوَجَلَّ دُنیا وآخِرت میں اُس کا پیٹ بھرے۔''(یعنی دُنیا میں فَقر وفاقہ سے بچے،قِیامَت کی بُھوک سے مَحفُوظ رہے،دَوزَخ سے پناہ دیا جائے کہ دَوزَخ میں کِسی کا پَیٹ نہ بھرے گا)
( طبرانی کبیر ج ۱۸ ص ۲۶۱ حدیث ۶۵۳ )
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
Flag Counter