Brailvi Books

آدابِ طعام
273 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔
کھانے کی برکتیں حاصل کرنے کا طریقہ
ميٹھے ميٹھے اِسلامی بھائیو!افسوس صد کروڑ افسوس ! آج کل مسلمانوں کے کھانے کا انداز دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ بَہُت کم ہی خوش نصیب ایسے ہوں گے جو سُنّت کے مطابِق کھانا کھاتے اور اس کی بَرَکتیں پاتے ہوں۔بیان کردہ حدیثِ مبارَک میں فرمایا گیا، ''تمہیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کِس حِصّے میں بَرَکت ہے ۔ '' لہٰذا ہمیں کوشِش کرنی چاہئے کہ کھانے کا ایک ذَرّہ بھی ضائِع نہ ہو،ہڈّی وغيرہ کو اس قَدَر چُوس چاٹ لینا چاہئے کہ اِس پر بوٹی کا کوئی جُزاور کسی قسم کے غذائی اَثْرات باقی نہ رہیں،ضَرورتاً رکابی میں ہڈّی کو جھاڑ لیجئے تا کہ کوئی دانہ وغيرہ اَٹکا ہو تو باہَر آجائے اور کھایا جاسکے، اگر ہو سکے تو کھانے میں پکے ہوئے گرم مَصالَحے مَثَلاً اِلائچی،  کالی مِرچ، لونگ،دار چینی ،وغیرہ بھی کھالیجئے
ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ
فائدہ ہی ہوگا۔ اگر نہ کھا سکیں تب بھی کوئی گناہ نہیں۔بریانی وغیرہ سے ثابِت ہری مرچیں نکال کر پھینک دینے کے بجائے ممکِن ہوتو کھاناشُروع کرنے سے پہلے ہی انہیں چُن کر محفوظ کرلیجئے اور آئِندہ کسی کھانے میں پیس کر ڈالدیجئے ۔ اکثر لوگ مچھلی کی کھال بھی پھینک دیتے ہیں اِس کو بھی کھا لینا چاہئے ۔اَلغَرَض کھانے کے تمام اَجزاء پر غور کرلیا جائے اور اس کی ہر بے ضَرر چیز کھالی جائے ۔ نیز اُنگلیاں اور برتن اِس قَدَر چاٹیں کہ ان میں کھانے کے اَجزاء باقی نہ رہیں۔
Flag Counter