ميٹھے ميٹھے اِسلامی بھائیو!افسوس صد کروڑ افسوس ! آج کل مسلمانوں کے کھانے کا انداز دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ بَہُت کم ہی خوش نصیب ایسے ہوں گے جو سُنّت کے مطابِق کھانا کھاتے اور اس کی بَرَکتیں پاتے ہوں۔بیان کردہ حدیثِ مبارَک میں فرمایا گیا، ''تمہیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کِس حِصّے میں بَرَکت ہے ۔ '' لہٰذا ہمیں کوشِش کرنی چاہئے کہ کھانے کا ایک ذَرّہ بھی ضائِع نہ ہو،ہڈّی وغيرہ کو اس قَدَر چُوس چاٹ لینا چاہئے کہ اِس پر بوٹی کا کوئی جُزاور کسی قسم کے غذائی اَثْرات باقی نہ رہیں،ضَرورتاً رکابی میں ہڈّی کو جھاڑ لیجئے تا کہ کوئی دانہ وغيرہ اَٹکا ہو تو باہَر آجائے اور کھایا جاسکے، اگر ہو سکے تو کھانے میں پکے ہوئے گرم مَصالَحے مَثَلاً اِلائچی، کالی مِرچ، لونگ،دار چینی ،وغیرہ بھی کھالیجئے