Brailvi Books

آدابِ طعام
272 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر ایک باردُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے ۔
میں بھی ایک ایک رسالہ نِتھی کر دیجئے۔اگر آپ کا دیا ہوا رسالہ یا پمفلٹ پڑھ کر کسی کا دل چوٹ کھا گیااور وہ نَمازی اور سنّتوں کا عادی بن گیا تو
اِن شاءَ اللہ عَزَّوّجَلَّ
آپ کابھی دونوں جہاں میں بیڑا پار ہوگا۔
ہر مہینے جو کوئی بارہ رسالے بانٹ دے

             ان شاءَ اللہ دو جہاں میں اُس کا بیڑا پار ہے
انگلیاں چاٹنا سنت ہے
حضرتِ سَیِّدُنا عامِر بن رَبیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایتَت ہے کہ نبیِّ پاک، صاحِبِ لَولاک، سَیاّحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تین انگلیوں سے کھاناتناوُل فرماتے اور جب فارِغ ہوجاتے تو انہیں چاٹ لیا کرتے تھے۔
         (مجمع الزوائد ج۵ص۲۳حدیث ۷۹۲۳)
نہ معلوم کھانے کے کس حصے میں برکت ہے
حضرت سیِّدُناجابِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ، ''تاجدارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، فیض گنجینہ، صاحِبِ مُعَطّر پسینہ، باعِثِ نُزُولِ سکینہ، سلطانِ باقرینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اُنگلیوں اور برتن کے چاٹنے کا حُکْم دیا اور فرمایا،'' تمہیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کِس حِصّے میں بَرَکت ہے۔''
 (صحیح مسلم ص۱۱۲۲الحدیث ۲۰۲۳)
Flag Counter