آپ کے اندر مَدَنی انقِلاب برپا ہو جائیگا۔'' اِس جملہ نے میری زبردست رہنمائی کی میں نے سوچا ، واقِعی شیطان مجھے یہ رسالہ کہاں پڑھنے دے گا، کل کس نے دیکھی ہے! نیکی میں دیر نہیں کرنی چاہئے، اِس کوابھی پڑھ لینا چاہئے ، یہ سوچ کر میں نے پڑھنا شُروع کیا، اُس پاک پروردگار عَزَّوّجَلَّ کی قسم جس کے دربارِ عالی میں حاضِرہو کر بروزِ قِیامت حساب دینا پڑے گا!جب میں نے رِسالہ بھیانک اُونٹ پڑھا تو اُس میں کفّارِ نابَکار کی جانِب سے سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر توڑے جانے والے مظالم کا پُر سوز بیان پڑھ کر میں اشکبار ہو گیا، میری نیند اُچَٹ گئی ، کافی دیر تک میں روتا رہا۔ راتوں رات میں نے عزم کیا کہ صُبح ہاتھوں ہاتھ مَدَنی قافِلے میں سفر کروں گا۔ جب صُبح والِدین کی خدمت میں عرض کی تو انہوں نے بخوشی اجازت مرحمت فرما دی اور میں تین دن کیلئے عاشِقانِ رسول کے ساتھ مَدَنی قافِلے کا مسافِر بن گیا، قافِلے والوں نے مجھے بدل کر کیا سے کیا بنا دیا!