| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہوا اور اُس نے مجھ پر درودِ پاک نہ پڑھا تحقیق وہ بد بخت ہوگیا۔
کواِفطار کے وَقت وہ ٹکڑا مانگا،اُس نے عرض کی،''وہ تَو میں نے کھالیا ۔''فرمایا ،''جا تُو آزاد ہے کیوں کہ میں نے تاجدارِ مدینہ، ر احَتِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ ، صاحبِ مُعَطّر پسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سُناہے، '' جو روٹی کا پڑا ہوا ٹکڑا اُٹھا کر کھالیتا ہے تَو اُس کے پَیٹ میں پہنچنے سے پہلے ہی اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی مَغفِرت فرمادیتا ہے ۔ ''اب جو مَغفِرت کا حقدار ہو گیا میں اُس کو غُلام کِس طرح بنائے رکّھوں؟
( تنبیہ الغافلین ص۳۴۸حدیث ۵۱۴)
مدنی سوچ
سُبحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! ہمارے بُزُرگوں کی بھی کیسی مَدَنی سوچ ہوا کرتی تھی کہ گِری ہوئی روٹی کھاکر غُلام مغفِرت کا حقدار ہوگیاتَو آقا نے بھی اپنی غلامی سے آزاد کردیا۔یا ربِّ مصطَفٰے عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بطفیلِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمیں بھی مَدَنی سوچ اور سنّتوں سے حقیقی مَحَبّت عطا فرما اور ہمیں بھی توفیق دے کہ جب زمین پر روٹی کا ٹکڑا پڑا دیکھیں ،اَدب سے اُٹھا کر چوم کرصاف کر کے کھا لینے کی سعادت حاصل کر لیا کریں۔یا الہٰی عَزَّوَجَلَّ ! سنّتوں پرعمل کے مُعامَلے ہماری جھجھک اُڑ جائے اور ہماری مغفِرت فرما۔
امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
سُنّتوں سے مجھے مَحبَّت دے
میرے مرشِد کا واسِطہ یا رب!