| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھے تو لوگوں میں وہ کنجوس ترین شخص ہے۔
گری ہوئی روٹی کھانے کی فضیلت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت بَہُت بڑی ہے بعض اوقات بَظَاہِر عَمَل بَہُت چھوٹا ہوتاہے مگر اُس کی فَضِیْلت بَہُت زیادہ ہوتی ہے ۔ جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ اللہ بِن اُمِّ حرَام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، دو جہاں کے سلطان ، سرورِ ذیشان ، محبوبِ رحمٰن عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مغفِرت نشان ہے ، ''روٹی کا اِحتِرام کرو کہ وہ آسمان وزمین کی بَرَکات سے ہے ۔جو شَخص دَستَرخوان سے گِری ہوئی روٹی کو کھالے گا اُس کی مَغفِرت ہوجائے گی۔''
(الجامِعُ الصَّغیر ص۸۸ حدیث ۱۴۲۶)
سبحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !
پیار ے اِسلامی بھائیو!کا ش! ہم تھوڑی سی جِھجَھک اُڑا دَیں اور دَسترخوان پر گِری ہوئی روٹی اور چاوَل کے دانے وغیرہ اُٹھا کر کھالیا کریں اور مغفِرت کے حقدار ٹھہر یں۔
روٹی کے ٹکڑے کی حکایت
ایک مرتبہ سَیِّدُنا عبدُ اللہ بن عُمَررضی اللہ تعالیٰ عنہما نے زَمین پر روٹی کا ٹکڑا پڑا دیکھا تَو غُلام سے فرمایا ، ''اِسے صاف کر کے رکھ دو۔ جب غلام سے شام
طالبِ مغفِرت ہوں یا اللہ
بخش دے بہرِ مصطَفٰے یا رب!