زبردست مُحَدِّث حضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد علیہ رحمۃ الماجد کو خلیفہ بغداد مامون رشید نے اپنے ہاں مدعو کیا، طَعام کے آخِر میں کھانے کے جودانے وغیرہ گر گئے تھے، مُحَدِّثِ موصوف چُن چُن کر تناوُل فرمانے لگے ۔ مامون نے حیران ہو کر کہا، اے شیخ! کیا آپ کا ابھی تک پیٹ نہیں بھرا؟ فرمایا،کیوں نہیں! دراصل بات یہ ہے کہ مجھ سے حضرتِ سیِّدُناحَماّد بن سَلَمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک حدیث بیان فرمائی ہے،'' جو شخص دسترخوان کے نیچے گِرے ہوئے ٹکڑوں کو چُن چُن کر کھائے گاوہ تنگدستی سے بے خوف ہو جائے گا۔'' میں اِسی حدیثِ مبارَک پر عمل کر رہا ہوں۔ یہ سُن کر مامون بے حد مُتَأَثِّر ہوا اور اپنے ایک خادِم کی طرف اِشارہ کیا تو وہ ایک ہزار دینار رومال میں باندھ کر لایا۔ مامون نے اس کوحضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد علیہ رحمۃ الماجد کی خدمت میں بطورِ نذرانہ پیش کر دیا۔حضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد علیہ رحمۃ الماجد نے فرمایا