صاف کرکے کھالیا۔یہ دیکھ کر گَنواروں نے آنکھوں سے ایک دوسرے کو اِشارہ کیا( کہ کتنی عجیب بات ہے، کہ گِرے ہوئے لُقمہ کو انہوں نے کھالیا)کسی نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا،'' اللہ عَزَّوَجَلَّ امیر کا بَھلاکرے ، اے ہمارے سردار!یہ گَنوار تِرچھی نگاہوں سے اِشارہ کرتے ہیں کہ امیر صاحِب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گِرا ہوا لُقمہ کھالیا حالانکہ اِن کے سامنے یہ کھانا مَوجُود ہے۔''اُنہوں نے فرمایا ،'' اِن عَجَمِیّوں کی وجہ سے میں اُس چیز کو نہیں چھوڑ سکتا جسے میں نے،سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ ، صاحِبِ مُعَطّر پسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سُنا ہے۔ہم ایک دوسرے کو حُکم دیتے تھے کہ لُقْمہ گِر جائے تو اُسے صاف کرکے کھالیا جائے شیطان کیلئے نہ چھوڑا جائے ۔''