Brailvi Books

آدابِ طعام
260 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جب تم مُرسلین (علیھم السلام )پر دُرُود پاک پڑھو تو مجھ پر بھی پڑھو بے شک میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں ۔
صاف کرکے کھالیا۔یہ دیکھ کر گَنواروں نے آنکھوں سے ایک دوسرے کو اِشارہ کیا( کہ کتنی عجیب بات ہے، کہ گِرے ہوئے لُقمہ کو انہوں نے کھالیا)کسی نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا،'' اللہ عَزَّوَجَلَّ امیر کا بَھلاکرے ، اے ہمارے سردار!یہ گَنوار تِرچھی نگاہوں سے اِشارہ کرتے ہیں کہ امیر صاحِب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گِرا ہوا لُقمہ کھالیا حالانکہ اِن کے سامنے یہ کھانا مَوجُود ہے۔''اُنہوں نے فرمایا ،'' اِن عَجَمِیّوں کی وجہ سے میں اُس چیز کو نہیں چھوڑ سکتا جسے میں نے،سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ ، صاحِبِ مُعَطّر پسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سُنا ہے۔ہم ایک دوسرے کو حُکم دیتے تھے کہ لُقْمہ گِر جائے تو اُسے صاف کرکے کھالیا جائے شیطان کیلئے نہ چھوڑا جائے ۔''
            (ابنِ ماجہ شریف ج۴ص۱۷حدیث ۳۲۷۸ )
رُوحِ ایماں مَغْزِ قُرآں جانِ دیں

ہَسْت   حُبِّ   رَحمَۃٌ   لِّلْعٰلَمِیْں
خوب انفرادی کوشش کیجئے
ميٹھے ميٹھے اِسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ؟جلیلُ الْقَدْر صَحابی اور مسلمانوں کے سردار سیِّدُنامَعقِل بن یَسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سنّتوں سے کس قَدَر پیار کرتے تھے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عَجَمِیّوں کے اشاروں کی ذرّہ برابر پرواہ نہ کی اور بے دھڑک سنّتوں پر عمل جاری رکھا۔ اور آج بعض نادان مسلمان ایسے بھی ہیں کہ
Flag Counter