اَلحمدُ لِلّٰہ عَزَّوّجَلَّ
یہ بیان دیتے وَقت مسلمان ہوئے مجھے چار ماہ ہو چکے ہیں، میں پابندی سے نَماز پڑھ رہا ہوں ، داڑھی سجانے کی نیَّت کر لی ہے، دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہو کر مَدَنی قافِلوں میں سفر کی سعادت بھی پارہا ہوں۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
لوگوں سے شرما کر سنت ترک نہیں کی جاتی!
ہمارے صَحابہ کرام علیھم الرضوان، آقا ئے نامدا ر ، مدینے کے تاجدار، رسولوں کے سالار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مَحَبَّت میں گُم رہا کرتے تھے ۔دُنیا کی کوئی کَشِش اور بے وَفا مُعاشَرے کی کوئی جُھوٹی ''مُرُوَّت '' اُن سے سُنَّت نہ چُھڑا سکتی تھی۔چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا حَسَن بَصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُنا مَعْقِل بن یَسَاررضی اللہ تعالیٰ عنہ (جوکہ وہاں مسلمانوں کے سردار تھے ) کھانا کھا رہے تھے کہ اُن کے ہاتھ سے لُقمہ گر گیا،اُنہوں نے اُٹھالیا اور
کافروں کو چلیں مشرکوں کو چلیں دعوتِ دین دیں قافِلے میں چلو
دین پھیلایئے سب چلے آیئے مل کے سارے چلیں قافلے میں چلو