تحصیل ٹانڈا ضلع آمبیڈ کرنگر(یو پی ھند)کے ایک اسلامی بھائی کا کچھ اس طرح بیان ہے، میں کُفر کی تاریک وادیوں میں بھٹک رہا تھا ، ایک دن کسی نے مکتبۃ المدینہ کا ایک رسالہ اِحتِرامِ مُسلم تحفے میں دیا میں نے پڑھا تو حیرت زدہ رَہ گیا کہ جن مسلمانوں کو میں نے ہمیشہ نفرت کی نگاہ سے دیکھا ہے ان کا مذہب ''اسلام'' آپَس میں اِس قَدَر اَمن و آشتی کاپیام دیتا ہے! رسالے کی تحریر تاثیر کا تیر بن کر میرے جگر میں پیوست ہو گئی اور میرے دل میں اسلام کی مَحَبَّت کا چشمہ موجیں مارنے لگا۔ ایک دن میں بس میں سفر کر رہا تھا کہ چند داڑھی اور عمامہ والے اِسلامی بھائیوں کا قافِلہ بھی بس میں سُوار ہوا ، میں دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ یہ مسلمان ہیں ، میرے دل میں اسلام کی مَحَبَّت تو پیدا ہوہی چکی تھی لہٰذا میں اِحتِرام کی نظر سے ان کو دیکھنے لگا ، اِتنے میں ان میں سے ایک اسلامی بھائی نے نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وا ٰلہٖ وسلَّم کی شان میں نعت شریف پڑھنی شروع کر دی، مجھے اُس کا انداز بے حد بھلا لگا، میری دلچسپی دیکھ کر ان میں سے ایک نے مجھ سے گُفتُگُو شُروع کر دی وہ تاڑ گیا کہ میں مسلمان نہیں ہوں، اُس نے مسکراتے ہوئے بڑے دلنشین انداز میں مجھ سے کہا ، میں آپ کو اسلام قَبول کرنے کی درخواست کرتا ہوں، رسالہ اِحتِرام مُسلم