Brailvi Books

آدابِ طعام
256 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ صبح اور دس مرتبہ شام درود پاک پڑھا اُسے قِیامت کے دن میری شفاعت ملے
اسراف کسے کہتے ہیں؟
مُفسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان تفسیرِ نعیمی ج۸ ص ۳۹۰ پر فرماتے ہیں ، اِسراف کی بَہُت تفسیریں ہیں(۱)حلال چیزوں کو حرام جاننا (۲)حرام چیزوں کو استِعمال کرنا(۳)ضَرورت سے زیادہ کھانا پینایا پہننا(۴)جو دل چاہے وہ کھا پی لینا پہن لینا(۵)دن رات میں بار بار کھاتے پیتے رَہنا جس سے مِعدہ خراب ہوجائے، بیمار پڑ جائے(۶)مُضِر اور نقصان دہِ چیزیں کھانا پینا (۷)ہر وَقت کھانے پینے پہننے کے خیال میں رَہنا کہ اب کیا کھاؤں گا آئندہ کیا پیوں گا
(رُوحُ البیان ج۳ص۱۵۴)
(۸)غفلت کیلئے کھانا(۹)گناہ کرنے کیلئے کھانا (۱۰)اچّھے کھانے پینے، اعلیٰ پہننے کاعادی بن جانا کہ کبھی معمولی چیز کھا پی نہ سکے (۱۱)اعلیٰ غذاؤں کواپنے کمال کانتیجہ جاننا۔ غرضیکہ اس ایک لفظ میں بَہُت سے اَحکام داخِل ہیں۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر دَم شکم سَیر رَہنے سے بچو کہ یہ بَدَن کو بیمار، مِعدہ کو خراب اور نَماز سے سُست کرتا ہے، کھانے پینے میں مِیانہ روی اختِیار کرو کہ یہ صَد ہا بیماریوں کا عِلاج ہے۔ اللہ تعالیٰ موٹے شخص ۱؎ کو ناپسند کرتا ہے،
(کشف الخفاء ج ۱ ص ۲۲۱ حدیث ۷۶۰)
جو شخص شَہوت(یعنی خواہِش)کو اپنے دین پر غالِب کرے وہ ہلاک ہو جائے گا۔
(رُوحُ الْمَعَانی ج۴ص۱۶۳ملتان، تفسیرِ نعیمی ج ۸ ص ۳۹۰مرکز الاولیاء لاہور)
(1) موٹاپے کی وجہ سے کسی مسلمان پر ہنس کر چھیڑ کر دل دکھانا گناہ ہے۔
Flag Counter