| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔
فرماتی ہیں،''سلطانِ دوجہان،شَہنشاہِ کون ومکان ، رَحمتِ عالَمیان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مکانِ عالی شان میں تشریف لائے ،روٹی کا ٹکڑا پڑا ہوا دیکھاتو اُس کو لے کر پُونچھا پھر کھالیااورفرمایا،''عائِشہ !(رضی اللہ تعالیٰ عنہا)اچھّی چیز کا اِحتِرام کرو کہ یہ چیز (یعنی روٹی )جب کِسی قوم سے بھاگی ہے تَولوٹ کر نہیں آئی۔''
(ابنِ ماجہ ج۴ص۵۰حدیث ۳۳۵۳)
کھانے کے اسراف سے توبہ کیجئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کل ہر ایک بے بَرَ کتی اور تنگدستی کا رونا رَورہا ہے۔ کیا بعید کہ روٹی کا اِحتِرام نہ کرنے کی یہ سزا ہو۔ آج شاید ہی کوئی مسلمان ایسا ہو ،جو روٹی ضائِع نہ کرتا ہو۔ ہر طرف کھانے کی بے حُرمتی کے دِلسوز نظّارے ہیں، شادی کی تقریبات ہوں یا بُزُرگانِ دین رحمہم اللہ تعالیٰ کی نیاز کے تبرُّکات ۔ افسوس صد کروڑ افسوس!دسترخوانوں اور دریوں پر بے دردی کے ساتھ کھانا گِرایا جاتا ہے ، کھانے کے دوران ہڈّیوں کے ساتھ بوٹی اورمَصالحہ برابر صاف نہیں کیا جاتا ، گرم مصالَحے کے ساتھ بھی کھانے کے کثیر اَجزاء ضائِع کر دیئے جاتے ہیں ، تھالوں میں بچا ہوا تھوڑا سا کھانا اور پِیالوں، پتیلوں میں بچا ہوا شوربا دوبارہ استِعمال کرنے کا اکثر لوگوں کا ذِہن نہیں ، اِس طرح کا بَہُت سارا بچا ہوا کھانا عُمُوما ً کچرا کُونڈی کی نذر کر دیا جاتا ہے ۔اب تک جتنا بھی اِسراف کیا ہے برائے مہربانی!