میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ٹیک لگا کر کھانا سنّت نہیں۔ اِس سنّت پر عمل نہ کر نے میں تین طبّی نقصانات بھی ہیں:۔(۱)کھانا اچّھی طرح چبا یا نہیں جا سکے گا اور اس میں لُعاب جس مقدار میں ملنا چاہئے اُتنا نہیں ملے گا جو کہ مِعدے میں جا کرنَشاستہ دار غذاؤں کوہَضم کر سکے اور یوں نِظامِ اِنْہِضام (یعنی ہاضِمہ )مُتَأَ ثِّرہو گا (۲)ٹیک لگا کر بیٹھنے سے مِعدہ پھیل جاتا ہے لہٰذا اس طرح غیر ضَرور ی خوراک مِعدے میں چلی جائے گی اور ہاضِمہ خراب ہو گا(۳)ٹیک لگا کر کھانے سے آنتوں اور جگر کو نقصان پہنچتا ہے ۔
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں ، '' ٹیک لگا کر پانی پینا بھی مِعدے کیلئے نقصان دہ ہے۔''
(اِحیاءُ العُلُوم ج ۲ ص ۵)
گِری ہوئی روٹی اُٹھا کر کھالینا سُنَّت ہے چُنانچِہ اُمّ الْمُؤمِنِین سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدِّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا