ٹیک لگا کر کھانا سنت نہیں ہے
سرکارِ نامدار، دو عالَم کے مالِک و مختار،شَہَنْشاہِ اَبرار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ خوشگوار ہے ،'' میں تکیہ (یعنی ٹیک )لگا کر نہیں کھاتا۔''
(کنزالعُمّال ج ۱۵ ص ۱۰۲ حدیث۴۰۷۰۴)
حضرتِ سَیِّدُنا ابو الدَّرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوايت ہے کہ حضُور اکرم، نورِ مجسَّم، شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا،''تم ٹیک لگا کر کھانا مت کھاؤ۔''
(مجمع الزوائِد ج۵ص۲۲حدیث ۷۹۱۸)
ٹیک لگا کر کھانے کی چار صُورَتیں
كھاتے وَقت تکیہ(یعنی ٹیک)لگانے کی چار صُورَتیں ہیں:۔(۱)ایک پہلو زمین کی طرف کر کے (یعنی دائیں یا بائیں جھکے ہوئے)بیٹھنا(۲)چار زانو (یعنی چوکڑی مار کر)بیٹھنا (۳)ایک ہاتھ زمین پر رکھ کر (اُس پر)ٹیک لگا کر