Brailvi Books

آدابِ طعام
250 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر ایک بار دُرُود ِ پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے ۔
ہے جو عُضو کو سڑا دیتی ہے چُنانچِہ ولید نے مشورہ دیا کہ عملِ جراحت ( آپریشن)کروا لیجئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راضی نہ ہوئے، مگر مرض پنڈلی تک بڑھ گیا ۔ ولید نے عرض کی،عالی جاہ! اب تو پاؤں کٹوانا ضروری ہے ورنہ یہ مرض سارے جسم میں سرایت کر جائیگا ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راضی ہو گئے ۔ چُنانچِہ طبیب آیا ، اُس نے کہا ، شراب پی لیجئے تا کہ کٹنے میں تکلیف کا احساس نہ ہو ۔ فرمایا،اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حرام کردہ چیز کے ذَرِیعے مجھے عافیّت نہیں چاہئے ۔ عرض کی ، اجازت ہوتو کوئی خواب آور دواء دیدوں۔ فرمایا، میں نہیں چاہتا کہ کوئی عُضوْ کاٹا جائے اور مجھے تکلیف کا احساس نہ ہواور تکلیف اور صَبْرکے ذَرِیعے ملنے والے اَجر سے میں محروم رہ جاؤں ۔عرض کی گئی، اچّھا، کچھ لوگو ں کو اجازت دیجئے کہ آپ کو پکڑے رہیں ۔ فرمایا، اِس کی بھی ضَرورت نہیں۔ بِالآخِرپہلے پاؤں کا گوشت چُھری سے اور پھر ہڈّی آری سے کاٹی گئی مگر آپ کا صَبْر و تحمل (تَ،حَم ْ۔مُلْ)مرحبا!زَبان سے آہ! تک نہ کی،مسلسل ذِکرُاللہ میں مصروف رہے، حتّٰی کہ جب لوہے کے چمچوں کے ذَرِیعے زیتون شریف کے کھولتے ہوئے تیل سے زَخم کو داغاگیا تو شدّتِ درد کے سبب بے ہوش ہو گئے، جب ہوش میں آئے تو چہرہ مبارَکہ سے پسینہ پونچھنے لگے اور کٹا ہوا پاؤں مبارَک ہاتھ میں لیکر اُلَٹ پَلَٹ کرتے ہوئے فرمایا، اُس
Flag Counter