| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پرروزِ جُمُعہ دو سو بار دُرُود پاک پڑھا اُس کے دو سو سال کے گناہ مُعاف ہوں گے۔
علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے تین انگلیوں کے ساتھ کھانا ثابِت ہے ۔حضرتِ سیّدُناامام ابراہیم باجُورِی علیہ ر حمۃ اللہِ القوی فر ما تے ہیں ، ''ایک بار عبّاسی خلیفہ مامونُ الرشيد کے سامنے چَمچوں کے ساتھ کھانا پیش کیا گیا، اُ س وَقْت کے قاضِیُّ الْقُضَاۃ حضرتِ سَیِّدُنا اِمام اَبُو یُوسُف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا،'' اللہ عَزَّوَجَل پارہ ۱۵ سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر ۷۰ میں ارشادفرماتا ہے،
وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیۡۤ اٰدَم
ترجَمہ کنزالایمان:اور بے شک ہم نے اولادِ آدم کو عزّت دی۔ (پ۱۵ بنی اسرائیل ۷۰)
اے خلیفہ !اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں آپ کے دادا جان حضرت سیِّدُنا عبداللہ ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں،''ہم نے اُن کے لئے اُنگلیاں بنائیں جن سے وہ کھانا کھاتے ہیں''تَو اُس نے ان چَمچوں کو ترک کر کے اُنگلیوں سے کھایا۔(ا َلْمَوَاہِبُ اللَّدُنِّیَّہ لِلبَاجُوْرِی ص۱۱۴)
چمچ سے کب کھا سکتے ہیں
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!اگر غِذا ہی ایسی ہے مَثَلاً فِرنی یارقیق(یعنی پتلی )دَہی وغیرہ کہ اُنگلیوں سے کھائی نہیں جاسکتی اور پی بھی نہیں سکتے یا ہاتھ میں زخم ہے یا ہاتھ مَیلے ہیں اور دھونے کیلئے پانی مُیَسَّر نہیں۔ تَو پھر ضَرورَتاً چَمچے کی اِجازَت ہے۔ اسی طرح گوشت کا پکا ہوا بڑا ٹکڑا یا ران وغیرہ کو چُھری سے کاٹ کر کھانے کی بھی اجازت ہے ۔