Brailvi Books

آدابِ طعام
245 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔
حضرتِ سیِّدُنا مُلّا علی قاری علیہ رحمۃُ الباری فرماتے ہیں ، ''پانچ اُنگلیوں سے کھانا حَریصوں کی علامت ہے۔''
 (مرقاۃ ج۸ ص ۹)
روٹی تین اُنگلیوں سے کھانا زیادہ دشوار بھی نہیں فَقَط تھوڑی توجُّہ کی ضَرورت ہے ۔البتّہ چاوَل تین اُنگلیوں سے کھانا تھوڑا سا دُشوار ہو تا ہے مگر مَدَنی ذِہن رکھنے والے عاشقانِ سنّت کیلئے یہ بھی کوئی مشکِل بات نہیں یقینا سنّت ہی میں عظمت ہے۔ بڑے نِوالوں کی حِرص میں پانچ اُنگلیوں سے کھانے کے بجائے تربیَّت کی خاطِر سیدھے ہاتھ کی بِنصَر(چھنگلیا کے برابر والی اُنگلی)کو خم کر کے اس میں ربڑ بینڈ پہن لیجئے یا روٹی کا ایک ٹکڑا چھوٹی انگلی اور بِنصَرسے ہتھیلی کی طرف دبا ئے رکھئے ۔ اگر جذبہ صادِق ہو اتو
اِن شا ءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
تین انگلیوں سے کھانے کی عادت بن جائے گی ۔ جب تین اُنگلیوں سے کھانے کی عادت ہو جائے تو اب ربڑ بینڈ اور روٹی کا ٹکڑا ہتھیلی کی طرف دبانے کی حاجت نہیں۔ اگر چاول کے دانے جُدا جُدا ہوں اور تین اُنگلیوں میں اُن کا نوالہ بن ہی نہ پاتا ہو تو اب چار یا پانچ اُنگلیوں سے کھا لیجئے۔مگر یہ اِحتیاط ضَروری ہے کہ ہتھیلیاں آلودہ نہ ہوں بلکہ اُنگلیاں بھی جڑ تک آلود نہ ہوں۔
چمچہ کے ساتھ کھانے کی حکایت
چُھری کانٹوں اور چَمچوں کے ساتھ کھانا خِلافِ سُنَّت ہے ۔ہمارے اَسلاف چَمچہ کے ساتھ کھانے سے پرہَیز کرتے تھے کیونکہ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ
Flag Counter