Brailvi Books

آدابِ طعام
241 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر ایک مرتبہ دُرُود شریف پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کیلئے ایک قیراط اجر لکھتا ہے اور قیراط احد پہاڑ جتنا ہے ۔
کی شرمندَگی کا باعِث ہوگا اور وہ اپنا ہاتھ روک لیں گے حالانکہ شاید انہیں ابھی اور کھانے کی حاجَت ہو۔
 ( شُعُب الایمان ج۵ص۸۳حدیث ۵۸۶۴ )
بیچ میں برکت کی وضاحت
مُفَسّرِ شہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنّان فرماتے ہیں ، برتن کے کَناروں سے اپنے اپنے آگے سے کھاؤ، بیچ میں سے مت کھاؤ کہ برتن کے بیچ میں بَرَکت اُترتی ہے وہاں سے کَناروں تک پہنچتی ہے۔ اگر تم نے بیچ میں سے کھانا شُروع کر دیا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہاں بَرَکت آنا بند ہو جائے ۔ غرضیکہ بَرَکت اُترنے کی جگہ اور ہے اور بَرَکت لینے کی جگہ کچھ اور۔
 (مراٰۃ ج ۶ ص ۶۳)
کھانے کی پانچ سُنّتیں
ميٹھے ميٹھے اِسلامی بھائیو! پیش کردہ حدیثِ مُبارَک میں کھانے کی پانچ سُنّتیں بَیان کی گئی ہیں :۔ (۱)اپنے آگے سے کھائے (۲)کوئی ساتھ کھا رہا ہو اُس کے آگے سے نہ کھائے(۳)رِکابی کے درمِیان سے نہ کھائے (۴) پہلے دسترخوان اُٹھا یا جائے اِس کے بعد کھانے والے اٹھیں۔(افسوس !آج کل عُمُوماً الٹا انداز ہے یعنی پہلے کھانے والے اُٹھتے ہیں اِس کے بعد دسترخوان اُٹھایا جاتا ہے) (۵)دوسرے بھی کھانے میں شامل ہوں تو اُس وَقْت تک ہاتھ نہ روکے جب تک سارے فارِغ نہ ہو جائیں۔ افسوس! کہ کھانے کی بَیان کردہ ان سُنَّتوں پر عمل کرنے والے اب نظر ہی
Flag Counter