| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے کتاب میں مجھ پر درود پاک لکھا تو جب تک میرا نام اُس میں رہے گا فرشتے اس کیلئے استغفار کرتے رہیں گے۔
تاجدارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پَروَرِش میں تھا۔(یہ اُمُّ المؤمِنین سیِّدتُنااُمِّ سَلَمَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے وہ فَرزَند تھے جو سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نکاح ميں آنے سے پہلے سابِقہ شوہر سے تھے)کھاتے وَقْت برتن میں ہر طَرف ہاتھ ڈال دیتا ۔تاجدارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا،''بِسْمِ اللہ پڑھو اور سِیدھے ہاتھ سے کھاؤ اور برتن کی اُس جانِب سے کھاؤ جو تُمہارے قریب ہے۔''
(صحيح بُخاری ج۳ص۵۲۱حدیث ۵۳۷۶)
بیچ میں سے مت کھائیے
حضرتِ سَیِّدُنا عبدُا للہ ابن عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے رِوایتَت ہے، رسولِ عظیم ، نبیِّ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم
علیہِ افْضَلُ الصَّلوٰۃِ وَالتَّسلیم
نے اِرشاد فرمایا،''بے شک بَرَکت کھانے کے درمِیانی حصّہ میں اُترتی ہے پس تم کَناروں سے کھانا کھاؤ اور در مِیان سے نہ کھاؤ۔''
(ترمذی شریف ج۳ص۳۱۶حدیث ۱۸۱۲ )
آپ کہیں بیچ سے تو کھانا نہیں کھاتے!
ميٹھے ميٹھے اِسلامی بھائیو! غور فرمائيے کہ اس سُنَّت پر آپ عمل کرتے ہیں یا نہیں؟ میرا بارہا کامُشاہَدہ ہے کہ باعمل نظر آنے والوں کی بھی اکثریت اِس سُنَّت پر عمل کرنے سے محروم ہے!جس کو دیکھو وہ کھانے کی رکابی یا سالن کے برتن وغیرہ کے بیچ ہی سے آغاز کرتا ہے ،نہ جانے کیوں؟کہیں ایسا تو نہیں کہ بَرَکت سے