(ہم دوستوں کی طلب میں سرکوپاؤں بناکرچلتے ہیں، کیونکہ جوکوئی اس راہ میں قدموں سے چلتاہے وہ آگے نہیں بڑھ پاتا)
میں نے دل میں آنے والے سُواری کے خیال سے توبہ کی۔ اس واقِعہ کو تین روز گزر ے تھے کہ'' خلیفہ مَلِک یارپراں'' میرے لئے ایک گھوڑی لے کر آئے اورکہنے لگے، میں مسلسل تین راتوں سے خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے شیخ مجھ سے فرما رہے ہیں ،'' فُلاں صاحِب کو گھوڑی دے آؤ۔''لہٰذا گھوڑی حاضِر ہے قَبول فرما لیجئے۔ میں نے کہا، بے شک آپ کے شیخ نے آپ سے فرمایاہوگا لیکن جب تک میرے شیخ مجھ سے نہیں فرمائیں گے میں یہ گھوڑی نہیں لوں گا۔ اُسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پیرو مرشِد حضرتِ سیِّدنا شیخ فریدُ الدّین گنجِ شکر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مجھ سے فرماتے ہیں کہ مَلِک یار پراں کی دل جوئی کے لئے وہ گھوڑی قَبول کر لو۔ دوسرے روز وہ گھوڑی لے کر آیا تو میں نے اسے عطِیّہ خداوندی سمجھتے ہوئے قَبول کر لیا۔