بھی بڑی عظمتوں کے مالِک ہوتے ہیں چُنانچِہ
یااللہ!صباحی کو اندھا کر دے
زبردست عالم و مُحدِّث حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن وَھْب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک لاکھ حدیثوں کے حافِظ تھے ، مِصر کے حاکم عُبّاد بن محمد نے انہیں قاضی بنانا چاہا تو عُہدہ قَضا سے بچنے کیلئے کہیں رُوپوش ہو گئے ۔ ایک حاسِد''صباحی'' نے جھوٹی چُغلی کھاتے ہوئے حاکم سے کہا ، '' عبداللہ بن وَھْب نے خود مجھ سے قاضی بننے کی حِرص ظاہِر کی تھی مگر اب آپ کی قصداً نافرمانی کرتے ہوئے غائب ہو گئے ہیں۔'' حاکم نے غصّہ میں آ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مکانِ عالی شان کو مُنہَدِم (مُنْ۔ ہَ۔ دِمْ)کروا دیا ۔ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن وَھْب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جلال میں آ کر بارگاہِ ربِّ ذوالجلال عَزَّوَجَلَّ میں عرض کر دی، یاالہٰی!عَزَّوَجَلَّ ''صباحی'' کو
اِجابَت کا سہرا عنایت کا جوڑا دلہن بن کے نکلی دعائے محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)
اِجابَت نے جُھک کر گلے سے لگایا بڑھی ناز سے جب دعائے محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)