Brailvi Books

آدابِ طعام
233 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو شخص مجھ پر درود پاک پڑھنا بھول گیا وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔
تیرا چہرہ بگڑ جائے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زَبانِ صداقت نشان کی یہ شان ہے کہ جو کچھ فرماتے وہ ہو جاتا ۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کارُتبہ تو بَہُت عظیم ہے، غلاموں کا حال مُلاحَظہ ہو، چُنانچِہ ایک عورت مشہور صحابی حضرت سیِّدُنا سَعْد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جھانکا کرتی تھی ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بارہا اُس کو مَنْع کیا مگر وہ بازنہ آئی۔ ایک دن اُس نے جب حسبِ معمول جھانکا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زَبانِ کرامت نشان سے یہ الفاظ نکلے،
شَاہَ وَ جْھُکِ
یعنی''تیراچہرہ بگڑ جائے ۔ '' پس اُسی وقت اُس کا چہرہ گُدّی کی طرف پھر گیا۔
 (جامعِ کراماتِ اولیاء ج۱ص۱۱۲)
    حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وَقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زَبانِ قَبولیّت نشان کی یہ تاثیر دراصل مہرِ مُنیر ، بشیر ونذیر ، رسولِ شَہیر محبوبِ ربِّ قدیر عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دعاء کا ثمر ہ تھا ۔ جیسا کہ جامِعِ ترمذی وغیرہ میں ہے ، میٹھے میٹھے مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بارگاہِ ربُّ العُلی میں دُعاء کی،
اَللّٰھُمَّ اِسْتَجِبْ سَعدًا اِذَا دَعَا کَ
یعنی ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! جب بھی سعد تجھ سے دُعا کرے تو قَبول فرما لیا کر ۔ ''
(ترمذی شریف ج ۵ ص ۴۱۸ حدیث ۳۷۷۲)
مُحّدِّثینِ کِرام
رَحِمَہُمُ اللہُ تعالی
فرماتے
محفوظ شہا رکھنا سد ا بے ادبوں سے

             اور مجھ سے بھی سر زد نہ کبھی بے ادَبی ہو
Flag Counter