Brailvi Books

آدابِ طعام
232 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ صبح اور دس مرتبہ شام درود پاک پڑھا اُسے قِیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔
سیدھے)ہاتھ کو استِعمال کرو، یہ عادت ایسی پختہ ہو جائے کہ کل قِیامت میں نامہ اعمال پیش ہو تو اِسی عادت کے مُوافِق دایاں (یعنی سیدھا)ہاتھ آگے بڑھ جائے تب تو کام بن جائے گا۔''پیارے اِسلامی بھائیو ! ہوش کیجئے اور دیکھئے ہمارے میٹھے میٹھے آقا مکّے مدینے والے مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اُلٹے ہاتھ سے کھانا پینا کِس قَدَر نا پسند ہے ۔چُنانچِہ
تیرا سیدھا ہاتھ کبھی نہ اُٹھے!
حضرتِ سَیِّدُناسَلَمَہ بِن اَکْوَع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مَروی ہے کہ ایک آدَمی نے اللہ کے محبوب ،دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے اُلٹے ہاتھ سے کھانا کھایا تَو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا،''سِیدھے ہاتھ سے کھاؤ۔''اُس نے کہا،میں سِیدھے ہاتھ سے نہیں کھاسکتا ۔ (غیب جاننے والے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سمجھ گئے کہ یہ تکبُّر سے بول رہا ہے چُنانچِہ)آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا ،
''لَااسْتَطَعْتَ
یعنی تجھے اِسْتِطاعَت نہ ہو ! ''(مطلب یہ کہ تیرا سیدھا ہاتھ کبھی نہ اُٹھے)اُس نے تَکبُّر کی وَجہ سے سِیدھے ہاتھ سے کھانا کھانے سے اِنکار کیا تھالہٰذاپھر اُس کا سِیدھا ہاتھ کبھی مُنہ کی طرف نہ اُٹھ سکا۔(یعنی اِسکا سِیدھا ہاتھ بیکار ہوگیا)
(صحیح مسلم ص۱۱۱۸ حدیث ۲۰۲۱)
وہ زَباں جس کو سب کُن کی کُنجی کہیں

       اُس کی نافذ حُکومت پہ لاکھوں سلام
(حدائقِ بخشش شریف)
Flag Counter