ميٹھے ميٹھے اِسلامی بھائیو!اَفسوس !آج کل ہم دُنیا کے چکّر میں اِس قَدَر گِھرچُکے ہیں کہ محبوبِ باری عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیاری پیاری سُنَّتوں کی طرف ہماری توجُّہ ہی نہیں رَہتی۔یاد رکھئے!حدیثِ مبارَک میں ہے کہ آدَمی کی رَگوں میں شیطان خُون کے ساتھ تَیرتا ہے۔
(صحیح مسلم ص ۱۱۹۷ حدیث ۲۱۷۴)
ظاہِر ہے کہ یہ ہمیں سُنَّتوں کی طَرف کہاں جانے دے گا؟ اگر چِہ سِیدھے ہاتھ سے ہی کھانا کھاتے ہیں لیکن پھر بھی اُلٹے ہاتھ سے کچھ دانے پھانک ہی لئے جاتے ہیں،کھاتے ہوئے چُونکہ سیدھا ہاتھ آلُودہ ہوتا ہے لھٰذا پانی اُلٹے ہی ہاتھ سے پی ڈالتے ہیں ،چائے پیتے وَقت کپ سیدھے ہاتھ میں اور رِکابی اُلٹے ہاتھ میں لئے چائے پیتے ہیں،کِسی کو پانی پلاتے وَقت جگ سِیدھے ہاتھ میں ہو تا ہے جبکہ گلاس اُلٹے میں اور اُلٹے ہاتھ سے گِلاس دوسروں کودیتے ہیں ۔''حیات مُحَدِّثِ اعظم'' ص 374پر ہے،مُحَدِّث اعظم پاکستان حضرت مولیٰنا محمد سردار احمد قادری چشتی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں، لینے اور دینے میں دائیں(یعنی