Brailvi Books

آدابِ طعام
228 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر ہو ا وروہ مجھ پر دُرُود پاک نہ پڑھے۔
پہنے کہ جس سے لوگ نیک پرہیزگار سجھیں یہ دونوں قسم کے لباس ، شُہرت کے لباس ہیں ۔اَلغَرَض جس لباس میں نیّت یہ ہوکہ لوگ اُس کی عزّت کریں یہ اُس کا لباسِ شہرت ہے ۔صاحِبِ مِرقاۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ، مَسخرہ پن کا لباس پہننا جس سے لوگ ہنسیں یہ بھی لباسِ شُہرت ہے۔
 ( مُلَخَّص از مراٰۃ ج ۶ ص ۱۰۹)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقِعی سخت امتحان ہے ،لباس پہننے میں بَہُت غور کرنے اور دکھاوے سے بچنے کی سخت ضَرورت ہے نیز جو لوگوں کو اپنی سادَگی کا مُعتَقِد بنانے کیلئے سادہ لباس و عِمامہ و چادر وغیرہ اپناتا ہے وہ رِیا کار اور جہنَّم کا حقدار ہے۔ ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اِخلاص کی بھیک مانگتے ہیں ۔
ٹپ ٹاپ کرنے والوں کے لئے لمحہ فکریہ
فیشن کی خاطر روز روز نئے لباس پہننے والے ، ذرا فیشن تبدیل ہوا یا لباس تھوڑا پُرانا ہوا یا کہیں سے معمولی سا پھٹا تو پیوند کاری کرکے اُس کو پہننے میں عار(یعنی عَیب )محسوس کرنے والے اِس روایت کو بار بار پڑھیں:

    ابو اُمامہ اِیَاس بن ثَعْلَبَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے تاجدارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا، کیا تم سُنتے نہیں؟ کیا تم سُنتے نہیں؟ کہ کپڑے کا پرانا
    مِرا ہر عمل بس تِر ے واسِطے ہو 	      کر اِخلاص ایسا عطا یا الہٰی

    رِیا کاریوں سے سیاہ کاریوں سے	      بچا یاالہٰی بچا یا الہٰی
Flag Counter