Brailvi Books

آدابِ طعام
227 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پرروزِ جُمُعہ دو سو بار دُرُود پاک پڑھا اُس کے دو سو سال کے گناہ مُعاف ہوں گے۔
پڑھئے اور جھومئے ۔

    تاجدارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا ،جو باوُجُودِ قُدرت اچھّے کپڑے پہننا،تواضُع (عاجِزی ) کے طور پر چھوڑ دے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کو کرامت کا حُلَّہ (یعنی جنّتی لباس)پہنائے گا ۔
     (ابو داو،دج۴ص۳۲۶،حدیث ۴۷۷۸)
فیش پرستو! خبردار!!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جھوم جاؤ! پاس دولت ہے ، عُمدہ لباس پہننے کی طاقت ہے پھر بھی اللہ ربِ العزّت عَزَّوَجَلَّ کی رِضا کی خاطر عاجِزی اختیار کرتے ہوئے سادہ لباس پہننے والا جنّتی لباس پا ئے گااور ظاہِر ہے جو جنّتی لباس پائیگا وہ یقینی طور پرجنّت میں بھی جائیگا ۔ لوگوں پر رُعب ڈالنے، امیرانہ ٹھاٹھ پالنے اورمَحض اپنے نفس کیلئے لوگوں کو مُتَأَثِّر کرنے کی خاطِرنُمایاں، فینسی اور بھڑکیلے لباس پہننے والے پڑ ھیں اور کُڑھیں:۔ 

    حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہ ابنِ عُمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، تاجدارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا،'' دُنیا میں جس نے شُہرت کا لِباس پہنا، قِیامت کے دن اللہ َّ اُس کو ذِلّت کا لِباس پہنائیگا۔''
(سنَنِ ابنِ ماجہ ج۴ ص ۶۳ ۱ حدیث ۳۶۰۶ )
لباس شُہرت کسے کہتے ہیں؟
مُفسّرِشہیر حکیمُ الامّت حضرتِ مُفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنّان اِس حدیثِ پاک کے تَحت فرماتے ہیں ،یعنی ایسا لباس پہنے کہ لوگ امیر (یعنی مالدار )جانیں یا ایسا لباس
Flag Counter