اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
بَرَکتیں اور سَعادتیں ہی سَعادتیں پائیں گے۔ ایک مبلِّغ دعوتِ اسلامی نے دعوتِ اسلامی میں اپنی شُمُولیّت کے جو اسباب بیان کئے وہ سُننے سے تعلُّق رکھتے ہیں، چُنانچِہ ان کے جذبات اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی کوشِش کرتا ہوں،
میں دعوتِ اسلامی میں کیسے آیا؟
مَنڈَن گڑھ ضلع رتنا گَری مَہاراشٹر (ہند)کے ایک اسلامی بھائی نے بتایا کہ 2002ء کی بات ہے، میں بُرے دوستوں کی صُحبت کے باعِث غنڈہ گَینگ میں شامِل ہوگیا ۔لوگوں کو مارنا پیٹنا اور گالیاں بکنا میرا معمول تھا، جان بوجھ کر جھگڑے مول لیتا،جو نیا فیشن آتا سب سے پہلے میں اپناتا ،دن میں کئی بار کپڑے تبدیل کرتا سِوائے جینز (jeans) کے دوسری پینٹ نہ پہنتا، آوارہ دوستوں کے ساتھ گھوم پھر کر رات گئے گھر لوٹتا اور دن چڑھے تک سوتا رہتا ۔والِد صاحِب کا انتِقال ہوچکا تھا، بیوہ ماں سمجھاتی تو
مَعاذَ اللہ (عَزَّوَجَلَّ)
زَبان درازی کرتاتھا۔ ایک مرتبہ دعوتِ اسلامی کے کسی باعمامہ اسلامی بھائی نے ملاقات پر ایک رِسالہ جناّت کا