Brailvi Books

آدابِ طعام
219 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود پاک کی کثرت کروبے شک یہ تمہارے لئے طہارت ہے ۔
بعض جانوروں پر حديثِ پاک ميں لعنت آئی ہے
 (ص۹۰)
(۱۱)کسی مسلمان کو يہ بددُعا ء نہ دے کہ''تجھ پر خدا کا غضب نازل ہو اورتُو(بھاڑ اور)آگ يا دوزخ ميں داخِل ہو،'' کہ حدیث شريف ميں اس کی مُمانَعَت وارِد ہے
(ص۱۰۰)
(۱۲)جو کافِر مرا اُس کے لئے دعائے مغفِرت حرام و کُفر ہے
 (ص۱۰۱)
(۱۳)یہ دُعاء کرنا، ''خدایا! سب مسلمانوں کے سب گناہ بخش دے ۔'' جائز نہيں کہ اس ميں اُن احاديثِ مبارَکہ کی تکذيب(یعنی جُھٹلانا)ہوتی ہے جن ميں بعض مسلمان کا دوزخ ميں جانا وارِد ہوا
(ص۱۰۶)
البتّہ يوں دُعاء کرنا''ساری اُمّتِ محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مغفِرت(یعنی بخشش) ہو ياسارے مسلمانوں کی مغفِرت ہو'' جائز ہے
(ص۱۰۲)
(۱۴) اپنے لئے اور اپنے دوست اَحباب ، اَہل ومال اور اولاد کے لئے بددُعا نہ کرے، کيا معلوم کے قَبولیَّت کا وَقت ہو اور بددُعا کا اثر ظاہِر ہونے پرنَدامت ہو (ص۱۰۷)
(۱۵)جو چيز حاصِل ہو (یعنی اپنے پاس موجود ہو)اس کی دُعا نہ کرے مَثَلًا مرد يوں نہ کہے، ''يا اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے مرد کردے '' کہ ِاستِہزا(مذاق بنانا) ہے ۔البتّہ ايسی دُعا جس ميں شريعت کے حکم کی تعميل يا عاجِزی وبندگی کا اظہار يا پروردگارعَزَّوَجَلَّ اور مدينے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے مَحَبَّت يا دين يا اَہلِ دين کی طرف رغبت يا کُفر وکافِرِين سے نفرت وغيرہ کے فوائد نکلتے ہوں وہ جائز ہے اگرچِہ اس اَمر کاحُصول يقين ہو۔جيسے دُرُود شريف پڑھنا ،وسيلے کی ،صراط مستقيم کی اللہ ورسول
Flag Counter