(۷)رنج ومصيبت سے گھبرا کر اپنے مرنے کی دُعا ء نہ کرے۔خيال رہے کہ دُنیوی نقصان سے بچنے کے لئے موت کی تمناّ ناجائز ہے اور دینی مُضَرَّت(یعنی دینی نقصان)کے خوف سے جائز
(۸) بِلاضَرورتِ شَرعی کسی کے مرنے اور خرابی(بربادی)کی دُعا نہ کرے،البتّہ اگر کسی کافِر کے ايمان نہ لانے پر يقین يا ظنِّ غالِب ہو اور(اس کے)جینے سے دين کا نقصان ہو يا کسی ظالِم سے توبہ اورظُلْم چھوڑنے کی اُمّیدنہ ہواور اُس کا مرنا،تباہ ہونا مخلوق کے حقّ ميں مُفید ہو تو ایسے شخص پر بددُعا کرنا دُرُست ہے
(۹) کسی مسلمان کو يہ بددُعا نہ دے کہ '' تو کافِر ہوجائے ''کہ بعض عُلَماء کے نزديک (ایسی دُعاء مانگنا)کُفر ہے اور تحقيق يہ ہے کہ اگرکُفر کو اچّھا يا اسلام کو بُرا جان کرکہے تو بے شک کُفر ہے ورنہ بڑا گناہ ہے کہ مسلمان کی بدخواہی(یعنی بُرا چاہنا)حرام ہے ، خُصُوصاً يہ بدخواہی (کہ فُلاں کاا یمان برباد ہو جائے)توسب بدخواہيوں سے بدترہے
(۱۰)کسی مسلمان پر لعنت نہ کرے اور اسے مَردود ومَلعُون نہ کہے اور جس کافِر کا کُفر پر مرنا يقین نہيں اُس پر بھی نام لے کر لعنت نہ کرے ۔یُونہی مچھّراور ہوا اور جَمادات(یعنی بے جان چیزوں مَثَلاً پتّھر،لوہا وغیرہ) وحَيوانات پر لعنت ممنوع ہے۔ البتّہ بچھّو وغيرہ