Brailvi Books

آدابِ طعام
217 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)تم جہاں بھی ہو مجھ پر دُرُود پڑھوکہ تمہارا دُرُود مجھ تک پہنچتا ہے ۔
''دُعامَومِن کا ہتھیار ہے'' کے ستَّرہ حُرُوف کی نِسبت سیدُعا مانگنے کے17 مَدَنی پھول
 (تقریباًتمام مدنی پھول اَحسَنُ الْوِعَاءِ لِاٰدابِ الدُّعاءِ مَع شَرحِ ذَیلُ الْمُدَّعا لِاَحسَنُ الْوِعاء مطبوعہ مکتبۃ المدینہ باب المدينہ سے ماخوذہیں)
(۱)ہرروز کم ازکم بیس بار دُعا کرنا واجِب ہے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ نَمازیوں کایہ واجِب،نَماز ميں سُورۃُ الفَاتِحَہ سے ادا ہوجاتا ہے کہ
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ
(ترجَمہ کنزالایمان: ہم کو سیدھا راستہ چلا)بھی دُعاء اور
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن
(ترجَمہ کنزالایمان:سب خُوبیاں اللہ کو جو مالِک سارے جہان والوں کا) کہنا بھی دُعاء ہے
(ص۱۲۳،۱۲۴)
(۲)دُعاء ميں حد سے نہ بڑھے۔ مَثَلاً اَنبیاء کرام
عَلَیْہِمُ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
کا مرتبہ مانگنا يا آسمان پر چڑھنے کی تمناّ کرنا۔نيز دونوں جہاں کی ساری بھلائیاں اور سب کی سب خوبیاں مانگنابھی مَنْع ہے کہ ان خوبيوں ميں مَراتبِ اَنبياء
عَلَیْہِمُ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
بھی ہيں جو نہيں مل سکتے
(ص۸۰،۸۱)
 (۳) جومُحال(یعنی ناممکن)يا قريب بہ مُحال ہو اُس کی دُعا نہ مانگے۔لہٰذا ہميشہ کے لئے تَندُرُستی عافیّت مانگنا کہ آدَمی عمر بھر کبھی کسی طرح کی تکليف ميں نہ پڑ ے یہ مُحال عادی کی دُعا مانگنا ہے۔یُونہی لنبے قد کے آدَمی کا چھوٹا قد ہونے يا چھوٹی آنکھ والے کا بڑی آنکھ کی دُعا کرنا ممنوع ہے کہ یہ ایسے اَمر کی دُعا ہے جس پر قلم جاری ہوچکا ہے
 (ص۸۱)
(۴)گناہ کی دعا نہ کرے کہ مجھے پرایا مال جائے کہ گناہ کی طلب کرنا بھی گناہ ہے۔
 (ص۸۲)
 (۵)قَطْعِ رِحم
Flag Counter