اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ
(ترجَمہ کنزالایمان: ہم کو سیدھا راستہ چلا)بھی دُعاء اور
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن
(ترجَمہ کنزالایمان:سب خُوبیاں اللہ کو جو مالِک سارے جہان والوں کا) کہنا بھی دُعاء ہے
(۲)دُعاء ميں حد سے نہ بڑھے۔ مَثَلاً اَنبیاء کرام
عَلَیْہِمُ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
کا مرتبہ مانگنا يا آسمان پر چڑھنے کی تمناّ کرنا۔نيز دونوں جہاں کی ساری بھلائیاں اور سب کی سب خوبیاں مانگنابھی مَنْع ہے کہ ان خوبيوں ميں مَراتبِ اَنبياء
عَلَیْہِمُ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
(۳) جومُحال(یعنی ناممکن)يا قريب بہ مُحال ہو اُس کی دُعا نہ مانگے۔لہٰذا ہميشہ کے لئے تَندُرُستی عافیّت مانگنا کہ آدَمی عمر بھر کبھی کسی طرح کی تکليف ميں نہ پڑ ے یہ مُحال عادی کی دُعا مانگنا ہے۔یُونہی لنبے قد کے آدَمی کا چھوٹا قد ہونے يا چھوٹی آنکھ والے کا بڑی آنکھ کی دُعا کرنا ممنوع ہے کہ یہ ایسے اَمر کی دُعا ہے جس پر قلم جاری ہوچکا ہے
(۴)گناہ کی دعا نہ کرے کہ مجھے پرایا مال جائے کہ گناہ کی طلب کرنا بھی گناہ ہے۔