Brailvi Books

آدابِ طعام
210 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھے تو لوگوں میں وہ کنجوس ترین شخص ہے۔
ہم کو سارے اولیا سے پیار ہے

ان شاءَ اللہ اپنا بیڑا پار ہے
کون ساکھانا بیماری ہے
حضرتِ سیِّدُنا عُقْبہ بن عامِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روای ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے نبی ، مکّی مَدَنی ، عَرَبی قَرَشی صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ صحّت نشان ہے،'' جس کھانے پر اللہ عَزَّوَجَلّ َ کا نام نہ لیا گیا ہو وہ بیماری ہے اور اس میں بَرَکت نہیں ہے اور اس کا کفّارہ یہ ہے کہ اگر ابھی دسترخوان نہ اُٹھا یا گیا ہو تو بسم اللہ پڑھ کر کچھ کھا لے اور دسترخوان اٹھا لیا گیا ہو تو بسم اللہ پڑھ کر اُنگلیاں چاٹ لے۔ ''
 (الجامع الصغیر ص ۳۹۴ حدیث۶۳۲۷ )
شیطان کے لئے کھانا حلال
حضرتِ سیدُنا حُذیفَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رِوایت کرتے ہيں کہ تاجدارِ مدینہ،قرارِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ و سلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے،'' جس کھانے پر بِسْمِ اللہ نہ پڑھی جائے وہ کھانا شیطان کیلئے حَلال ہوجاتا ہے۔'' (یعنی بِسْمِ اللہ نہ پڑھنے کی صُورت میں شیطان اُس کھانے میں شریک ہوجاتا ہے)
(صحیح مسلم ص۱۱۱۶حدیث ۲۰۱۷)
کھانے کو شیطان سے بچاؤ
Flag Counter