میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!پہلے کے لوگ بُزُرگوں کے بارے میں کس قَدَر اچّھا عقیدہ رکھتے تھے اور بوقتِ ضَرورت اُن سے اپنی حاجتیں طلب کرتے تھے۔ ان کایہ ذہن بنا ہوا ہوتاتھا کہ اللہ والے بعطائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ مدد کیا کرتے ہیں۔ بَہَرحال اولیاء ُاللہ
اپنے ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ کی عنایات سے مزارات میں حیات ہوتے ہیں، آنے جانے والوں کی بات سنتے ہیں،ھدایت و استِعانت کرتے ہیں اور اپنے گھروں کے معاملات کی بھی خبر رکھتے ہیں، جبھی تو صاحبِ مزار بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خواب میں جا کر اُس سماجی کارکُن کی رہنُمائی فرمائی اور اُس نومولود کے غریب باپ کی دستگیری(دَسْتْ۔گِیری)اور مالی امداد کی۔ حضرتِ علامہ ابنِ عابِدین شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، '' اولیاء ُاللہ
ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مختلف دَرَجات رکھتے ہیں اور زائرین کو اپنے مُعارِف و اَسرار کے لحاظ سے نَفع پہنچاتے ہیں۔
(رَدُّالْمُحتَارج ۱ ص ۶۰۴)
خالی کبھی پھیرا ہی نہیں اپنے گدا کو اے سائلومانگو تو ذرا ہم ہاتھ بڑھا کر
خود اپنے بھکاری کی بھرا کرتے ہیں جھولی خود کہتے ہیں یا ربّ !مرے منگتا کا بھلا کر