پیش کرتے ہوئے کہا ،'' جب کبھی آپ کے پاس پیسوں کی ترکیب بن جائے مجھے لوٹا دینا۔''دونوں اپنے اپنے راستے ہو لئے۔ سماجی کارکن کو رات خواب میں صاحبِ مزار کادیدار ہوا ، فرمایا، آپ نے مجھ سے جو کہا وہ میں نے سُن لیا تھا مگر اُس وقت جواب دینے کی اجازت نہ تھی ، میرے گھر والوں سے جا کر کہئے کہ وہ انگیٹھی ( اَنْ۔گی۔ٹھی)کے نیچے کی جگہ کھودیں، ایک مشکیزہ نکلے گا اُس میں 500 دِینار ہو ں گے وہ ساری رقم اُس نومولود کے والِد کو پیش کردیجئے۔'' چُنانچِہ وہ صاحِبِ مزار کے گھر والوں کے پاس پہنچا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ ان لوگوں نے نشاندہی کے مطابِق جگہ کھو دی اور 500 دِینار نکال کر حاضِر کر دیئے ۔ سماجی کارکن نے کہا، یہ سب دینار آپ ہی کے ہیں، میرے خواب کا کیا اِعتِبار! وہ بولے ،جب ہمارے بُزُرگ دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی سخاوت کرتے ہیں توہم کیوں پیچھے ہٹیں ! چُنانچِہ ان لوگوں نے باِ صرار وہ دِینار اُس سماجی کا ر کُن کو دیئے اور اس نے جا کر اُس نومولود کے والِد کو پیش کر دیئے اور سارا واقِعہ سنایا۔ اُس غریب شخص نے آدھے دِینار سے قرضہ اُتارا اور آدھا دِینار اپنے پاس رکھتے ہوئے کہا،'' مجھے یِہی کافی ہے۔'' باقی سب اُسی سماجی کارکُن کو دیے ہوئے کہا، بقِیّہ تمام دینار غریب و نادار لوگوں میں تقسیم فرما دیجئے۔ راوی کا بیان ہے ، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ان سب میں کون زیادہ سخی ہے!