سبحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !
مزارت میں رہتے ہوئے بھی اپنے مہمانوں کی خاطِر مدارات فرماتے ہیں چُنانچِہ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی کچھ اس طرح نَقل کرتے ہیں ، مکہ مکّرمہ کے ایک شافِعی مُجاور کا کہنا ہے، مِصر میں ایک غریب شخص کے یہاں بچّے کی وِلادت ہوئی اُس نے ایک سماجی کارکُن سے رابِطہ کیا، وہ نومولود کے والِد کو لیکر کئی لوگوں سے ملا مگر کسی نے مالی امداد نہ کی، آخِر کار ایک مزار پر حاضِری دی، اُس سماجی کارکن نے کچھ اِس طرح فریاد کی، ''یا سیِّدی! اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے، آپ اپنی ظاہِری زندگی میں بَہُت کچھ دیا کرتے تھے، آج کئی لوگوں سے نو مو لود کیلئے مانگا مگر کسی نے کچھ نہ دیا۔'' یہ کہنے کے بعد اُس سماجی کارکن نے ذاتی طور پر آدھا دِینار نو مولود کے والِد کواُدھار
کیا غرض در در پھروں میں بھیک لینے کیلئے ہے سلامت آستانہ آپکا داتا پیا
جھولیاں بھر بھر کے لے جاتے ہیں منگتے رات دن ہو مری امید کا گلشن ہرا داتا پیا