| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر ایک مرتبہ دُرُود شریف پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کیلئے ایک قیراط اجر لکھتا ہے اور قیراط احد پہاڑ جتنا ہے ۔
کون سا دستر خوان سنت ہے؟
مُفسّرِشہیر حکیمُ الامّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنّان فرماتے ہیں ، ''سنّت یہ ہے کہ کھانے کے آگے قدرے جُھک کر بیٹھے ۔دسترخوان کپڑے کا، چمڑے کا اور کھجور کے پتّوں کاہوتا تھا ان تین قسم کے دسترخوانوں پر کھانا حُضُور صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کھایا ہے، دسترخوان بھی نیچے زمین پر بچھتا تھا اور خود سرکار صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی زمین پر یشریف فرما ہوتے تھے۔''
(مراٰۃ ج ۶ ص ۱۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ٹیبل کرسی پر کھانا اگر چِہ گُناہ نہیں مگر زمین پر دسترخوان بِچھا کر کھانا سُنّت ہے اور سنّت ہی میں عظمت ہے۔ افسوس! آج کل یہ سنّت مسلمانوں نے کافی حد تک ترک کر رکھی ہے ،مذہبی گھرانوں میں بھی اب ٹیبل کرسی پر کھانے کا رَواج ہو گیا ہے ۔ شادیوں میں بھی ٹیبل کرسی بلکہ اب تو کرسی بھی ہٹا لی گئی ہے لوگ ٹیبل کے ارد گرد پھر کر کھانا کھاتے ہیں۔ آہ! سنّتوں بھرا دور پھر کب آ ئے گا!
ہر لقمہ پر ذکر اللہ جل جلا لہ
حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ، ''اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس بندے سے راضی ہوتا ہے کہ جب لقمہ کھاتا ہے تو اُس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حَمد کرتا
سنّتیں عام کریں دین کا ہم کا م کریں
نیک ہو جائیں مسلمان مدینے والے