(الجامع الصغیر ص ۱۲۲ حدیث ۴ ۹۷ ۱ )
ٹیبل کرسی پر کھانا سنت نہیں
صحیح بخاری میں حضرتِ سیِّدُنا اَنس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روای ہے، نبیِّ آخِرُالزّمان، رحمتِ عالمیان، دو عالم کے سلطان،سرورِ ذیشان صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خَوَان(یعنی میز) پر کھانا کھایا نہ ہی چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں کھایا اور نہ آپ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کیلئے پتلی چپاتیاں پکائی گئیں۔ حضرتِ سیِّدُنا قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جب پوچھا گیا ؟ وہ حضرات کس چیز پر کھاتے تھے ؟فرمایا،دسترخوان پر۔
(صحیح البخاری ج۳ص۵۳۲ حدیث۵۴۱۵)
صدر الشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ٹیبل کُرسی پر کھانا اگر چِہ گناہ نہیں مگر سنّت بھی نہیں ۔ صدرُ الشَّریعہ بدرُ الطَّریقہ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ القوی بہار ِشریعت حصّہ ۱۶ میں فرماتے ہیں، '' خوان ، تِپائی (یا میز)کی طرح اُونچی چیز ہوتی ہے جس پر اُمَراء کے یہاں کھانا چُنا جاتا ہے۔ تا کہ کھاتے وَقت جُھکنا نہ پڑے اُس پر کھانا کھانا مُتکبِّرین کا طریقہ تھا جس طرح بعض لوگ اِس زمانہ میں میزیعنی(ٹیبل)پر کھاتے ہیں، چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں کھانا اُمَراء کا طریقہ ہے ان کے یہاں مختلف قسم کے کھانے چھوٹے چھوٹے برتنوں میں رکھے جاتے ہیں۔
(بہارِ شریعت حصّہ ۱۶ ص۱۲ )