Brailvi Books

آدابِ طعام
202 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے کتاب میں مجھ پر درود پاک لکھا تو جب تک میرا نام اُس میں رہے گا فرشتے اس کیلئے استغفار کرتے رہیں گے۔
سے فرمایا ، دیکھو ! یہ اُونٹنی جس کا ہم دودھ پیتے ہیں اور یہ بڑا پِیالہ جس میں کھاتے پیتے ہیں اور یہ چادر جو میں اوڑھے ہوئے ہوں یہ سب بیت المال سے لیا گیا ہے۔ ہم ان سے اسی وَقت تک نَفْع اندوز ہوسکتے تھے جب تک میں مسلمانوں کے اُمورِ خِلافت انجام دیا تھا۔ جس وَقت میں وفات پا جاؤں تو یہ تمام سامان حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دینا ۔ چُنانچِہ جب حضرتِ سیِّدُنا صِدّیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتِقال ہو گیا تو اُمّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیدینا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ تمام چیزیں حسبِ وصی واپَس کر دیں ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چیزیں(واپَس پا کر)فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اُن پر رحم فرمائے کہ انھوں نے تو اپنے بعد میں آنے والوں کو تھکا دیا ہے ۔
   ( تاریخُ الْخُلفاء ص۶۰)
کھانے والے کی مغفرت کی ایک صورت
جو بھی صاحِبِ شان کام شُروع کیاجائے اُس سے قَبْل
بِسْمِ اللہ
شَریف ضَرور پڑھنی چاہئے کہ سنّت ہے۔ اِسی طرح کھانے یا پینے سے قَبْل بھی
بِسْمِ اللہ
پڑھنا سُنّت ہے اور اس کی بڑی بَرَکتیں ہیں۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روای ہے کہ مکّی مَدَنی سرکار، دو عالم کے مالِک و مختار، صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا ، '' آدَمی کے سامنے کھانا رکھا جاتا ہے اور اٹھانے سے پہلے ہی اُس کی مغفِرت ہو جاتی ہے، اِس کی صورت یہ ہے کہ جب رکھا جائے
بِسْمِ اللہِ
Flag Counter