سے فرمایا ، دیکھو ! یہ اُونٹنی جس کا ہم دودھ پیتے ہیں اور یہ بڑا پِیالہ جس میں کھاتے پیتے ہیں اور یہ چادر جو میں اوڑھے ہوئے ہوں یہ سب بیت المال سے لیا گیا ہے۔ ہم ان سے اسی وَقت تک نَفْع اندوز ہوسکتے تھے جب تک میں مسلمانوں کے اُمورِ خِلافت انجام دیا تھا۔ جس وَقت میں وفات پا جاؤں تو یہ تمام سامان حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دینا ۔ چُنانچِہ جب حضرتِ سیِّدُنا صِدّیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتِقال ہو گیا تو اُمّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیدینا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ تمام چیزیں حسبِ وصی واپَس کر دیں ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چیزیں(واپَس پا کر)فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اُن پر رحم فرمائے کہ انھوں نے تو اپنے بعد میں آنے والوں کو تھکا دیا ہے ۔