میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس حِکایت کو سُن کر فَقَط نعرہ دادو تحسین بُلند کر کے دل کو خوش کر لینے کے بجائے ہمیں بھی تقویٰ اور قَناعت کا درس حاصِل کرنا چاہئے۔ با لخصوص اربابِ اقتدار و حُکومت افسران نیز آئمّہ مساجد ، دینی مدارِس کے مدرِّسین اور مختلف اسلامی شُعبہ جات سے وابَستہ اسلامی بھائیوں کیلئے اِس حِکایت میں قَناعت و خُود داری اپنانے، حرص و طمع سے خود کو بچانے اوراپنی آخِرت کو بہتر بنانے کیلئے خوب خوب خوب سامانِ عبرت ہے۔ کاش! ہم سب محض نَفْس کی تحریک پر تنخواہ کی کمی بیشی یعنی '' اُس کی تنخواہ تو اتنی زیادہ اور میری اِتنی کم'' کہہ کہہ کر اس طرح کے مُعامَلات میں اُلجھنے کے بجائے قلیل آمدنی پر قَناعت کرتے ہوئے نیکیوں میں کثرت کے تمنّائی بن جائیں۔سیِّدُنا صِدّیقِ اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پرہیزگاری اور دولتِ دُنیوی سے بے رغبتی کے مُتَعَلِّق ایک اور حِکایت سماعت فرمایئے چُنانچِہ