مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمّت حضرتِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنّان اِس حدیثِ مبارَک کے تَحت فرماتے ہیں ، ''اگر کھانا تھوڑا ہو اور کھانے والے زِیادہ ،تو انہیں چاہئے کہ دو آدَمِیّوں کے کھانے پر تین آدَمی اور تین کے کھانے پر چار آدَمی گُزارہ کر لیں اگر چِہ پیٹ تو نہ بھرے گا مگر اتنا کھا لینے سے ضُعْف(یعنی کمزوری )بھی نہ ہو گا ،عبادات بخوبی ادا ہو سکیں گی۔ اِس فرمانِ عالی شان میں قناعت و مُرُوَّت کی اعلیٰ تعلیم ہے۔ ''
خلیفۃُ الرَّسول حضرتِ سیِّدُنا صِدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خِلافت کا واقِعہ ہے، ایک بار حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدّیقِ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اَہلیہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حَلْوا کھانے کی خواہش ہوئی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''ہمارے پاس اتنی رقم نہیں کہ ہم حلوا خرید سکیں۔'' عَرض کی:'' میں اپنے گھریلو اخراجات میں سے چند دنوں میں تھوڑے تھوڑے پیسے بچا کر کچھ رقم جَمع کر لونگی اُسی سے حَلْوا خرید لیں گے۔'' فرمایا:''ایسا کرلینا۔'' چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رقم جمع کرنا شروع کی۔ چند دنوں میں تھوڑی سی رقم جمع ہوگئی۔جب انہوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بتایا تاکہ