Brailvi Books

آدابِ طعام
199 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)تم جہاں بھی ہو مجھ پر دُرُود پڑھوکہ تمہارا دُرُود مجھ تک پہنچتا ہے ۔
مل کر کھانے کی فضیلت
ایک ہی دَسترخوان پر مِل کر کھانے والوں کو مُبارَ ک ہو کہ حضرتِ سیدُنا اَنَس بن مالِک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایت ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو یہ بات سب سے زیادہ پسند ہے کہ وہ بندہ مؤمِن کو بیوی بچّوں کے ساتھ دَستَر خوان پر بیٹھ کر کھاتا دیکھے۔ کیوں کہ جب سب دَستَر خوان پر جَمع ہوتے ہیں توا للہ عَزَّوَجَلَّ اُن کو رَحمت کی نِگاہ سے دیکھتا ہے اورجُدا ہونے سے پہلے پہلے اُن سب کو بَخش دیا ہے۔
(تنبیہ الغافلین ص۳۴۳ )
پِتھالوجی کے ایک پروفیسر نے اِنکشاف کیا ہے جب مِل کر کھانا کھایا جاتا ہے تو سب کھانے والوں کے جراثیم کھانے میں مِل جاتے ہیں اور وہ دوسرے اَمراض کے جراثیم کو مارڈالتے ہیں نیز بعض اوقات کھانے میں شِفاء کے جراثیم شامِل ہوجاتے ہیں جو مِعدہ کے اَمراض کیلئے مفید ہوتے ہیں۔
ایک کا کھانا دو کو کافی ہے
حضرتِ سیِّدُنا جابِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبیِّ کریم،رء ُوفٌ الرَّحیم
علیہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسلیم
کو فرماتے سُنا ،'' ایک کا کھانا دو کوکافی ہے اور دو کا کھانا چار کو اور چار کا کھانا آٹھ کو کِفایت کرتا ہے۔''
(صحیح مسلم ص۱۱۴۰حدیث ۲۰۵۹)
مل كر كھانے میں معدے كا علاج
Flag Counter