درس و بیان کے ثواب کا بھی کیا کہنا !حضرتِ علامہ جلالُ الدّین سُیوطِی الشّافِعی علیہ رحمۃ اللہ القوی'' شَرحُ الصُّدو ر''میں نَقل کرتے ہیں ،اللہ
نے حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم ُاللہ
عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلیہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
کی طرف وحی فرمائی ، ''بھلائی کی باتیں خود بھی سیکھو اور دوسروں کو بھی سکھاؤ ،میں بھلائی سیکھنے اور سکھانے والوں کی قبروں کو روشن فرماؤں گا تاکہ ان کو کسی قسم کی وَحشت نہ ہو ۔ ''
(حلیۃ الاولیاء ج۶ص۵ حدیث۷۶۲۲)
اِس روایت سے نیکی کی بات سیکھنے سکھانے کا اجر و ثواب معلوم ہوا ۔ سنّتوں بھرا بیان کرنے یا درس دینے اور سننے والوں کے تو وارے ہی نیارے ہو جائیں گے ،
اِن شا ءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
اُن کی قبریں اندرسے جگمگ جگمگ کررہی ہوں گی اور انہیں کسی قسم کا خوف محسوس نہیں ہوگا ۔اِنفرادی کوشِش کرتے ہوئے نیکی کی دعوت دینے والوں ، مَدَ نی قافِلے میں سفر اور فکرِ مدینہ کرکے مَدنی اِنعامات کا کارڈ روزانہ پُر کرنے کی