آکَولہ(مہاراشٹر ،الھند )کے ایک اسلامی بھائی نے کچھ اس طرح کا بیان دیا کہ بدمذہبوں کیساتھ تعلُّقات کے باعِث ہمارا گھرانہ بد عملی کے ساتھ ساتھ بد عقیدَگی کی طرف بھی گامزَن تھا ،ایک دن ہم سب گھر والے ملکر T.V. دیکھنے میں مشغول تھے کہ میرا ستَّرہ سالہ چھوٹا بھائی جو کہ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اِجتِماع میں آنے جانے لگا تھا، وہ T.V کی طرف پیٹھ کئے اُلٹا چلتا ہوا کمرہ میں داخِل ہوا اور اپنی کوئی چیز الماری سے نکال کر اِسی انداز پر واپس پلٹا ۔اِس کی یہ عجیب و غریب حَرَکت دیکھ کر میں غصّے میں چیخا ، ''کیا تیرا دماغ خراب ہوگیا ہے جو آج یہ عجیب بچکانہ حَرَکت کررہا ہے ! '' وہ جوابی کاروائی کئے بِغیر دوسرے کمرے میں چلا گیا ۔ والِدہ صاحِبہ نے خُلاصہ کیا ،کہ اِس نے مجھے بتایا تھا کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ آئِندہ T.V کی طرف دیکھوں گا بھی نہیں !میں نے غصّہ کی وجہ سے چھوٹے بھائی سے بات چِی بند کردی ۔ اُس نے گھر میں سب کو اِکٹھّا کرکے فیضانِ سنّت کا درس جاری کردیا۔میں اِس میں نہیں بیٹھتا تھا ،ایک دن میں قریب ہوکر بیٹھ گیا کہ سُنوں توسَہی یہ دَرس میں کیا بتاتا ہے، سناتو بَہُت اچّھا لگا ،لہٰذا میں روزانہ گھر درس میں شریک ہونے لگا ۔رفتہ رفتہ میرے دل کی سیاہی دُور ہونے لگی ، حتیّٰ کہ دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع میں حاضِری دینے لگا ۔