میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !خوش نصیب ہیں وہ مسلما ن جو کلامِ ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ ،نعتِ شاہِ موجودات صَلّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم اور سنّتوں بھرے بیانات تو سنتے ہیں مگر فلمی گانوں اور موسیقی کی آواز آنے پر بہ سبب خوفِ خداوندی نہ سننے کی پوری کوشش کرتے ہوئے کانوں میں اُنگلیاں داخِل کرکے وہاں سے فوراً دُور ہٹ جاتے ہیں ۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا نافِع رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں،میں بچپن میں حضرتِ سیِّدُنا عبداﷲ ابنِ عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہماکے ساتھ کہیں جارہا تھا کہ راستے میں مِزْمار (یعنی باجہ)بجانے کی آواز آنے لگی،ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنے کانوں میں اُنگلیاں ڈال دیں اورراستے سے دوسری طرف ہٹ گئے اور دُورجانے کے بعد پوچھا، نافِع ! آواز آرہی ہے ؟میں نے عرض کی ،اب نہیں آرہی۔ تو کانوں سے انگلیاں نکالیں اورارشاد فرمایا، ''ایک بار میں سرکارِ مدینہ منوَّرہ ، سردارِ مکَّہ مکرَّمہ صَلّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم کے ساتھ کہیں جارہا تھا ، سرکارصَلّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَ سَلَّم نے اسی طرح کیا جو میں نے کیا۔''
(ابوداوٗد ج۴ص ۳۰۷الحدیث ۴۹۲۴ )