بازاروں میں ٹھیلوں اور بستوں وغیرہ پر طرح طرح کی چَٹپَٹی غذاؤں کے چٹخارے لینے والے اس سے درسِ عبرت حاصِل کریں۔ جب بازار میں کھانا بُرا ہے تو فِلمی گیوں کی دُھنوں میں ہو ٹلوں کے اندر وَقت بے وَقت کھانا،چائے کی چُسکیاں لینااور ٹھنڈے مشروبات پیناکس قَدَر مَعیوب ہوگا! اگر گانے نہ بھی بج رہے ہوں تب بھی ہوٹلوں کا ماحول اکثرغفلتوں بھرا ہو تا ہے، ان میں جا کر بیٹھنا شُرَفاء اور باشرع حضرات کے شایانِ شان نہیں ۔ لہٰذا ضَرورت ہو تب بھی خرید کر کسی محفوظ جگہ پر کھانے پینے ہی میں بھلائی ہے۔ ہاں جومجبورہے وہ معذور ہے۔مگر جب ہوٹل میں فلمیں ڈرامے یا گانے باجے کا سلسلہ ہو تو وہاں نہ جائے کہ جان بوجھ کر مُوسیقی کی آواز سننا گناہ ہے۔ چُنانچِہ
موسیقی کی آواز سے بچنا واجب
حضرتِ سیِّدُنا علامہ شامی رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ، '' (لچکے توڑے کے ساتھ) ناچنا ، مذاق اُڑانا، تالی بجانا ، سِتار کے تار بجانا، بَربَط، سارنگی ، رَباب، بانسری ، قانون (ایک ساز کا نام) ،جھانجھن، بِگل بجانا ، مکروہِ تحریمی( یعنی قریب بحرام)ہے