| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔
فَضل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے دَورانِ تعلیم کبھی بھی بازار سے کھانا نہیں کھایا ان کے والِد صاحِب ہر جُمُعہ کو اپنے گاؤں سے ان کیلئے کھانا لے آتے تھے ۔ ایک مرتبہ جب وہ کھانادینے آئے تو ان کے کمرے میں بازار کی روٹی رکھی دیکھ کرسَخت ناراض ہوئے اور اپنے بیٹے سے بات تک نہیں کی۔ صاحِبزادے نے معذِرت کرتے ہوئے عَرض کی،ابّا جان! یہ روٹی بازار سے میں نہیں لایا میر ارفیق میری رِضا مندی کے بِغیر خرید کر لایا تھا ۔ والِد صاحِب نے یہ سُن کر ڈانٹتے ہوئے فرمایا، اگر تمہارے اندر تقویٰ ہوتا تو تمہارے دوست کو کبھی بھی یہ جُرّأت نہ ہوتی ۔
( تَعْلِیْمُ الْمُتَعَلِّمِ طَرِیْقُ التَّعَلُّمِ ص۶۷ بابُ المدینہ کراچی)
بازاری کھانا بے برکت ہوتا ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! ہمار ے بُزُرگانِ دین
رَحِمَہُمُ اللہُ المُبین
تقوے کا کس قَدَر خیال رکھتے تھے اور اپنی اولا د کی کیسی زبردست تربیّت فرماتے تھے کہ ہوٹل کی اور بازاری غِذائیں انہیں نہیں کھانے دیتے تھے ۔ حضرتِ امام زَر نُوجی علیہ رحمۃ القَوی فرماتے ہیں،''اگر ممکِن ہو توغیرمُفید اور بازاری کھانے سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ بازاری کھانا انسان کو خِیانت و گندَگی کے قریب اور ذِکرِ خُداوندی عَزَّوَجَلَّ سے دُور کر دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بازار کے کھانوں پر غُرَبا ء اور فُقَراء کی نظریں بھی پڑتی ہیں اور وہ اپنی غُربت و اِفلاس کی بِنا پر جب اس