| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جب تم مُرسلین (علیھم السلام )پر دُرُود پاک پڑھو تو مجھ پر بھی پڑھو بے شک میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں ۔
نہ ہوا۔تحقیق شروع ہوئی ،کسی نے بتایا کہ ڈرائیور نے کھانے سے قَبل ہوٹل کے قریب ٹرک کے ٹائر چیک کئے تھے، پھر ہاتھ دھوئے بِغیر اُس نے کھانا کھایا تھا ۔ چُنانچِہ ٹرک کے ٹائروں کو چیک کیا گیا تو اِنکِشاف ہوا کہ پہیّے کے نیچے ایک زَہریلا سانپ کُچلاگیا تھا جس کا زَہر ٹائر پر پھیل گیا اور وہ ڈرائیور کے ہاتھوں پر لگ گیا ، ہاتھ نہ دھونے کے سَبَب کھانے کے ساتھ وہ زَہر پیٹ میں چلاگیا جو کہ ڈرائیور کی فوری موت کا سَبَب بنا۔
بازار میں کھانا
حضرتِ سیدُنا اَبو اُمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایتت ہے کہ نبیِّ کریم، رسولِ عظیم، رء ُوفٌ رَّحیم علیہِ افضلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسلیم نے اِرشاد فرمایا،''بازار میں کھانا بُرا ہے۔''
(جامع صغیر ص۱۸۴ حدیث ۳۰۷۳)
صَدرُ الشَّرِیعہ بَدْرُ الطَّرِیقَہ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ القَوی فرماتے ہیں،''راستے اور بازار میں کھانا مکروہ ہے۔ ''
( بہارِشریعت حصہ ۱۶ ص ۱۹)
بازار کی روٹی
حضرتِ سیِّدُنا امام بُرہانُ الدّین ابراھیم زَر نُوجی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں، امامِ جلیل حضرتِ سیِّدُنا محمد بن
اللہ کی رَحمت سے سُنّت میں شَرافت ہے سرکار کی سنّت میں ہم سب کی حفاظت ہے