(کَنزُالعُمّال ج ۱۰ ص ۱۰۶ حدیث ۴۰۷۵۵)
بیماریوں سے حفاظت کے نسخے
ميٹھے ميٹھے اِسلامی بھائیو! کھانے کے وُضو سے مُراد نَماز والا وُضو نہیں بلکہ اِس میں دونوں ہاتھ گِٹّوں تک اور منہ کا اگلا حصّہ دھونا اور کُلّی کرنا ہے۔ مُفسّرِشہیر حکیمُ الامّت حضرتِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں ، ''تَوریت شریف میں دوبار ہاتھ دھونے کُلّی کرنے کاحُکم تھا ، کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد مگریَہود نے صِرف بعدوالا باقی رکھا، پہلے کا ذِکْر مٹادیا ۔ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کُلّی کرنے کی ترغیب اِس لئے ہے کہ عُمُوماً کام کاج کی وجہ سے ہاتھ میلے ، دانت میلے ہو جاتے ہیں ، اور کھانے سے ہاتھ منہ چکنے ہو جاتے ہیں لہٰذا دونوں وَقت صفائی کی جائے۔ کھانا کھا کر کُلّی کرنے والا شخص
اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ