یعنی اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے ۔
(صحیح البخاری ج۱ص۵الحدیث۱)
جو عمل اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا کیلئے کیا جائے اُس میں ثواب ملتا ہے،رِیاء یعنی اگر دِکھاوے کیلئے کیاجائے تو وُہی عمل گناہ کا باعِث بن جاتا ہے اوراگر کچھ بھی نیت نہ ہو تو نہ ثواب ملے نہ گناہ جبکہ وہ عمل فی نَفسِہٖ مُباح(یعنی جائز )ہو۔ مَثَلاً کوئی حلال چیز جیسا کہ آئسکریم یا مٹھائی یا روٹی کھائی اور اس میں کچھ بھی نیت نہ کی تو نہ ثواب ہو گا نہ گناہ۔ البتّہ قِیامت میں حساب کا مُعامَلہ در پیش ہوگا جیسا کہ سرکارِ نامدار، دو عالم کے مالِک و مختار، شَہَنْشاہِ اَبرار صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ حقیقت بنیاد ہے ،
حَلَالُھا حِسَابٌ وَّ حَرامُھَا عَذَابٌ۔
یعنی اس کے حلال میں حساب ہے اور حرام میں عذاب۔
(فردوس بما ثور الخطاب ج ۵ ص ۲۸۳ حدیث ۸۱۹۲)
رسولِ پاک، صاحِبِ لَولاک، سیاّحِ اَفلاک صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے، بے شک قِیامت کے دن آدَمی سے اس کے ہر ہر کام حتّٰی کہ آنکھ کے سُرمے کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا
(حِلیۃُ الاولیاء ج ۱۰ ص ۳۱ حدیث ۱۴۴۰۴)
لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ اپنے ہر مُباح کام میں اچّھی اچّھی نیتیں شامل کرلی جائیں۔ چُنانچِہ